Home / entertainment / وہ وقت کمال تھا

وہ وقت کمال تھا

نادانیوں میں جو گزر گیا وہ وقت کمال  تھا

مجھے لگتا ہے میرا بچپن محض خیال تھا

جوانی کی دہلیز پہ قدم رکھ کے یہ جانا

یہ زندگی کی ڈگر فقط ایک فریب ہے

یہاں فاصلے بھی بہت ہیں

ادھر دلوں میں بھی کھوٹ ہے

میرے اس دیس میں حسد کا رواج ہے

معصومیت کا لبادہ اوڑھ کر

دوسروں کو برباد کرنے کا رواج ہے

میرے دیس کے لوگ منافق بھی ہیں

جو دلوں پہ وار کرتے ہیں

ادھر جھوٹ راتوں رات بکتا ہے

ادھر سچ کی بولیاں بھی لگتی ہیں

لوگ منسلک ہیں اپنے فرقوں سے

جھوٹی اَنا کی پاسداری بھی رکھتے ہیں

یہاں طاقت کا زور چلتا ہے

اور غریب کو چھلنی چھلنی کرتا ہے

میں قائل ہوں اپنے اسلاف سے

جو حق کی بات سکھا گئے

وعدہ وفا نبھا گئے

Share
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Check Also

آنکھوں کے جال

آہ تیری مدبھری آنکھوں کے جال میز کی سطحِ درخشندہ کو دیکھ کیسے پیمانوں کا …