Home / entertainment / اور تو تم سے کیا نہیں ہوتا

اور تو تم سے کیا نہیں ہوتا

اور تو تم سے کیا نہیں ہوتا

ایک وعدہ وفا نہیں ہوتا

آپ لائے ہیں ہم پیام اپنا

دوسرے سے ادانہیں ہوتا

میری قسمت کو کیوں برا کہیے

آپ چاہیں تو کیا نہیں ہوتا

وہ خفا ہو گیا تو ہو جائے

بت کسی کا خدا نہیں ہوتا

ہم سے دل کھول کر ملا کیجیے

شرم میں کچھ مزا نہیں ہوتا

بات سنے میں کیا قباحت ہے

ہر سخن مدعا نہیں ہوتا

تلخ تر ہیں رقیب کی باتیں

زہر اتنا برا نہیں ہوتا

درد سے آشنا نہ ہو جب تک

آدمی کام کا نہیں ہوتا

کچھ ادا ، کچھ حجاب، کچھ شوخی

نیچی نظروں میں کیا نہیں ہوتا

دل محبت سے بھر گیا بے خود

اب کسی پر فدا نہیں ہوتا

Share
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Check Also

عمر گل کے 20 سالہ پروفیشنل کرکٹ کا سفر تمام

یارکر سپیشلسٹ عمر گل کے 20 سالہ پروفیشنل کرکٹ کا سفر تمام ہو گیا۔ عمر …